مغربی کنارے میں بستے فلسطینی مسلمان بھی نشانے پر۔۔۔!!
اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں بسے اسرائیلی آبادکاد کا عالمی احتساب کی پروا کیے بغیر لاکھوں اہل فلسطین پہ ظلم و ستم کرنے میں پیش پیش ۔۔۔!!
یہ 8 فروری کی بات ہے، کئی مسلح اسرائیلی آبادکاروں نے ان فلسطینی چرواہوں پر حملہ کر دیا جو مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک ) میں واقع الخلیل شہر (یہپرون ) کے قریب سادیت الثلہ محلے میں اپنے ریوڑ چرا ر ہے تھے۔ انہوں نے فلسطینیوں کو چراگاہ سے نکال دیا اور ان کے مویشیوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے ڈرون کا استعمال کیا۔ نتیجے کے طور پر چرواہوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کے خوف زدہ جانوروں میں سے اکثر کو اسقاط حمل ہو گیا اور مردہ بچے پیدا ہوئے۔
گھنائونی جنگ
یہ واقعہ کوئی انوکھا نہیں۔ در حقیقت یہ اس گھناؤنی جنگ کا حصہ ہے جسے انسانی حقوق کے رہنما اہل فلسطین کے خلاف جاری " اسرائیلی آباد کاروں کی معاشی جنگ" کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس جنگ کے باعث خاص طور پر مقبوضہ مغربی کنارے میں بسے فلسطینی مسلمان نقل مکانی اپنانے پر مجبور ہور ہے ہیں۔
سادیت الثلہ میں جو کچھ ہوا وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کے 561 واقعات میں سے ایک ہے جنھیں اقوام متحدہ کے ادارے یواین آفس فاردی کو آڈینیشن آف ہیومن افیر (UN Office for the Coordination of Humanitarian Affairs) نے 7اکتوبر 2023ء سے 20 فروری 2024 ء کے درمیان ریکارڈ کیا۔ اس ڈیٹا میں کے مطابق اسرائیلی آباد کا راب تک اپنے حملوں سے مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم آٹھ فلسطینی شہید کرچکے اور 111 زخمی ہوئے۔ اعداد و شمار کی رو سے پچھلے پانچ ماہ کے دوران اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے تشدد کی بار بارلہریں ، جنہیں اسرائیلی فوج کی کھلی حمایت حاصل ہے، 198 گھرانوں میں 586 بچوں سمیت 1208 فلسطینیوں کی نقل مکانی کا باعث بن چکیں ہیں۔ گویا غزہ میں بہتے فلسطینی مسلمان اگر ریاست اسرائیل کے براہ راست ظالمانہ حملوں کی زد میں ہیں تو اسرائیلی اسٹبلشمنٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کا بھی جینا حرام کر رکھا ہے۔
یہودی بستیاں
مقبوضہ مغربی کنارے کا رقبہ 5,655 مربع کلو میٹر ہے۔ اس علاقے کومستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست میں شامل ہونا ہے۔ علاقے میں تقریباً اٹھائیسں لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ مگر اسرائیلی آباد کار اس علاقے میں رفتہ رفتہ اپنی یہودی بستیاں بسا کر علاقے پہ قابض ہور ہے ہیں اور کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں۔ امریکا، برطانیہ اور دیگر یورپی قوتیں ان یہودی بستیوں کی مذمت تو کرتی ہیں مگر ان کی تعمیر روکنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا۔
نتیجہ یہ ہے کہ آج مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعداد 279 ہو چکی۔ ان میں سات لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد ہیں۔ ان میں وہ اسرائیلی بھی شامل ہیں جو مشرقی بیت المقدس میں بھی اپنی بستیاں بنا کر علاقے پر قبضہ کر رہے ہیں۔ یاد رہے، اہل فلسطین مشرقی بیت المقدس کو اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن ظالم و جابر اسرائیلی حکمران طبقے کو کسی طور یہ گوارا نہیں ۔ یہی وجہ ہے، وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑے منظم اور شاطرانہ طریقے سے یہودی بستیاں بسا کر رفتہ رفتہ اس علاقے کو ہڑپ کر رہا ہے۔
مودی کو راہ دکھا دی
ماہرین کہتے ہیں، اسرائیل نے بھارتی انتہا پسند حکمران، نریندر مودی کو بھی صلاح دی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں زیادہ سے زیادہ ہندو بستیاں تعمیر کرنے کا منصوبہ بنائے ۔ اس طرح مقبوضہ کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی آبادی کم سے کم کر کے انھیں اقلیت میں بدلا جا سکتا ہے۔ اس طرح بھی رائے شماری ہوئی بھی تو مقبوضہ کشمیر بھارت سے الگ نہیں ہو سکے گا۔ اسرائیلی حکمران طبقہ اسی منصوبے پر عمل کر کے مقبوضہ مغربی کنارے پہ قابض ہونا چاہتا ہے۔
اور اس کا منصو بہ امریکا، برطانیہ اور دیگر یورپی طاقتوں کی مکمل حمایت و آشیر باد سے جاری ہے۔ یہ قو تیں بظاہر یہودی بستیاں تعمیر کرنے پہ اسرائیل کی مذمت کرتی ہیں، مگر اندرون خانہ انھوں نے یہ بستیاں تعمیر کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔
حملوں کا نیا سلسلہ
غزہ یہ اسرائیل کے حالیہ وحشیانہ و انسانیت سوز حملے کے بعد مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد اسرائیلی آبادکار بھی بڑھ چڑھ کر فلسطینی پڑوسیوں پر حملے کرنے لگے۔ یہ آباد کار ہر قسم کے اسلحے سے لیس ہیں۔ یہی نہیں انھیں اسرائیلی سیکورٹی فورسز اور حکومت کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ یہ جتھوں کی صورت اہل فلسطین پر حملہ آور ہوتے اور انھیں ہر ممکن طریقے سے ہراساں و خوفزدہ کرتے ہیں تا کہ وہ خاص طور پر اپنی زمینوں سے دستبردار ہو جائیں۔
اسرائیلی سرکاری پالیسی
اسرائیلی آباد کاروں کو ہر ممکن مدد دینا اور انھیں اہل فلسطین پر حملے کے لیے اکسانا اسرائیلی ریاست کی سرکاری پالیسی کا مرکزی حصہ ہے۔ اسی سرکاری پالیسی کے ذریعے اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے میں اہل فلسطین کا خاتمہ چاہتا ہے تا کہ اس پر مکمل خود مختاری قائم کی جاسکے اور بستیوں کی توسیع کوممکن بنایا جائے۔
اسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے دوران مغربی کنارے پہ قبضہ کیا تھا۔ اسرائیکی حکومت نے اس علاقے کو" یہود او سامرہ" کا نام دے رکھا ہے۔کٹر یہود کا دعوی ہے کہ ماضی میں یہ علاقہ یہودی ریاست کا حصہ تھا۔ اسی لیے وہ یہود کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ یہاں اپنی بستیاں تعمیر کر لیں۔ چونکہ اس علاقے کے 82 فیصد حصے پر اسرائیل قابض ہے لہذ انٹی بستیاں بنانے میں کوئی رکاوٹ در پیش نہیں آتی۔
اصول وقانون کی پروا نھیں
سچ تو یہ ہے کہ جیسے جیسے امریکی حکمران طبقہ اسرائیل کی مکمل ننگی حمایت کر رہا ہے، ویسے ویسے اسرائیلی حکومت کے حوصلے بھی بڑھے ہیں ۔ اب وہ اخلاقیات اور اصول و قانون کی پروا کیے بغیر مغربی کنارے میں نئی یہودی بستیاں تعمیر کر رہی ہے۔ جب عالمی معاملات میں طاقت سکہ بن جائے تو سب سے پہلے کمزور و نا تواں انسانوں کے حقوق ہی پامال ہوتے ہیں۔ یہ حقیقت مغربی کنارے میں بڑی شدت و خوف کی سے نمایاں ہے۔
یہود کو ملتی مراعات
مغربی کنارے میں بنی یہودی بستیوں میں سے ایک سو با قاعدہ ہیں۔ وہاں بستے اسرائیلیوں کو زندگی کی تمام سہولتیں میسر ہیں۔ دیگر بستیاں کھیتوں یا چوکیوں کی صورت قائم ہیں۔ مگر اسرائیلی حکومت رفتہ رفتہ انھیں وسعت دے رہی ہے۔ یورپ، افریقا، جنوبی امریکا اور ایشیا ہے جو یہودی نقل مکانی کر کے اسرائیل آئیں تو اسرائیلی حکومت کوشش کرتی ہے کہ انھیں مغربی کنارے میں واقع کسی بستی میں بسا دیا جائے ۔ اس سلسلے میں نے آباد کاروں کو بہت سی مراعات اور سہولتیں بھی دی جاتی ہیں۔ مدعا یہی ہے کہ مہبود کو ابھارا جائے ، وہ ان بستیوں میں بس جائیں۔ غریب و متوسط طبقے کے یہودی اپنی حکومت کی پیشکش قبول کر کے ان بستیوں میں آباد ہو جاتے ہیں۔
منفی ذہنیت
مغربی کنارے میں آباد ہوئے بیشتر یہودی ایسے ماحول سے آئے ہیں جو ند ہیں طور پہ شدت پسند رہا ہے۔ ان کی تعلیم بھی مذہبی امور تک محدود ہوتی ہے۔ اسی لیے ان کا زاویہ نظر بھی محدود ہوتا ہے۔ وہ اتنی وسعت قلبی نہیں رکھتے کہ مسلمان فلسطینیوں کو پڑوسی کی حیثیت سے تسلیم کر لیں اور ان کے حقوق ادا کریں۔ جنگ ذہنیت کے سبب بیشتر اسرائیلی آباد کار اہل فلسطین سے نفرت کرتے اور انھیں نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں۔
اهل فلسطین و کشمیر کے مجرم :
یہ عالم اسلام کی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ ان کو پہلے برطانیہ اور پھر امریکا کے مسلم دشمن حکمران فکر گئے ۔ ان دونوں مغربی ممالک کے حکمرانوں کی سازشوں اور چالوں کا نتیجہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کے مسلمان بھارتی حکمران طبقے کے ماتحت بنے پہ مجبور ہو گئے۔ جبکہ فلسطین میں بہتے مسلمانوں پہ اسرائیلی حکمران مسلط کر دیئے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#palestine #voiceforpalestine #hateisraeel #muslims





0 Comments