7 ستمبر 1974 ء کا دن وہ تاریخ ساز دن تھا جس دن تقریباً 90 سالہ فتنہ کو ختم کر کے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

7 ستمبر 1974 ء کا دن وہ تاریخ ساز دن تھا جس دن تقریباً 90 سالہ فتنہ کو ختم کر کے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

مملکت خداداد پاکستان ہمارے آباؤ اجداد نے عظیم قربانیاں دے کر حاصل کیا ۔ اس حصول کامقصد دو قومی نظریہ تھا جس کے مطابق مسلمان اپنا ایک الگ مذہبی تشخص رکھتے ہیں اور مذہبی اعتبار سے کسی دوسرے غیر اسلامی مذہب کی آمیزش کو قبول کرنے سے مبرا ہیں۔

Historical day of Resolution in 1974 Qadiyani Fitna


                             قیام پاکستان کے بعد اس کی کابینہ میں سر ظفر اللہ خان قادیانی کو وطن عزیز پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کر دیا گیا۔ سر ظفر اللہ خان نے ایک سازش کے ذریعے تمام پاکستانی سفارتخانوں کو قادیانیت کی تبلیغ کے لئے استعمال کیا اور بے شمار قادیانیوں کو ملازمتیں دیں۔ اسلامیان پاکستان نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جس کے نتیجہ میں قادیانی کے خلاف1953ء میں ایک بڑی تحریک نے جنم لیا جس میں مطالبہ کیا گیا قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کو برطرف کیا جائے۔

                         اس تحریک ختم نبوت میں دس ہزار سے زائد شمع رسالت کے پروانوں نے جام شہادت نوش کیا مگر اُس وقت کی فوجی حکومت نے مارشل لاء کی طاقت کے ذریعے اسے دبا دیا۔ مجاہد ملت مولا نا محمد عبدالستار خان نیازی اور مولانا مودودی کو سزائے موت سنائی گئی۔ 1953ء میں یہ تحریک ختم نبوت بظاہر مارشل لاء کے ذریعے ختم کر دی گئی مگر عاشقان ختم نبوت اور اسلامیان پاکستان کے دلوں میں قادیانیوں کے خلاف لاوا پکتا رہا۔ 

Allama Shah Ahmad Nourani


                        علامہ امام شاہ احمد نورانی نے 30 اپریل 1974ء کو قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے خلاف ایک قرار داد جمع کروائی جس پر 37 افراد کے دستخط موجود تھے بعد ازاں 1974ء میں اس عظیم تحریک کا آغاز 29 مئی کو قادیانیوں کی نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلبہ پرربوہ (چنابنگر ) ریلوے اسٹیشن پر مار پیٹ کرنے اور طلباء کو شدید زدو کوب کرنے سے ہوا۔ اس واقعہ کے بعد ملک بھر میں جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ شہر شہر قریہ قریہ جلوس نکالے جار ہے تھے اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر تھا۔ قریب تھا کہ ملک میں خون خرابہ ہو اور ملک کی سلامتی کونقصان پہنچے کیونکہ بھارت، امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہے تھے۔

                             ملک کے تمام بڑے شہروں لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، ملتان ، سرگودھا، گوجرانوالہ میں لوگ سراپا احتجاج تھے اور حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ اس سانحہ کی عدالت عالیہ کے کسی جج سے تحقیقات کروائی جائے۔ امام شاہ احمد نورانی صدیقی جو قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں سے پہلے ہی آگاہ تھے اور سقوط ڈھاکہ کا اصل مجرم بھی قادیانیوں کو سمجھتے تھے انہوں نے یحیی خان کو قادیانی ، اسرائیل گٹھ جوڑ کے متعلق آگاہ بھی کیا تھا۔ مولانا شاہ احمد نورانی نے اسمبلی سے باہر جون 1974ء سے لے کر ستمبر1974ء تک ملک کے طول عرض میں مسلسل دورے کر کے عامتہ المسلمین کو قادیانی فتنہ کی ہلاکت انگیزیوں سے آگاہ کیا۔

                             مسئلہ کی سنگینی کے پیش نظر اور قادیانیوں کے عزائم سرکوبی کے لئے ضروری تھا کہ علمائے کرام کو سیاسی و آئینی کوششوں کے ذریعے قادیانی فتنہ کی سرکوبی کی جائے۔ اس سے قبل مولانا شاہ احمد نورانی آئین پاکستان 1973ء میں مسلمان کی متفقہ تعریف شامل کرواچکے تھے۔ چنانچہ امام نورانی جو 30 اپریل 1974ء کو قادیانیوں کے خلاف قومی اسمبلی میں ایک تاریخی قرار داد پیش کر چکے تھے جس میں مطالبہ کیا گیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

                                 اس قرار داد پر 37 ارکان قومی اسمبلی نے دستخط کیے جن میں علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری ، مولانا محمد ذاکر مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، مخدوم نورمحمد ہاشمی ، سردار شیر باز خان مزاری، چودھری ظهور الہی ، مولانا عبدالحق، مولانا سید محمد علی رضوی، اور صاحبزاد و احمد رضا قصوری کے نام قابل ذکر ہیں۔ امام شاہ احمد نورانی کو راہ حق سے ہٹانے کے لئے لاہوری گروپ کی ایس بی آفیسر سے سیکرٹری وزارت صنعت و حرفت حکومت پاکستان کے ذریعے 1974ء میں 50 لاکھ روپے کی پیشکش کی امام نورانی نے غصے میں آکر اس رقم کو ٹھوکر ماری اور کہا کہ ہمارا سودا بازار مصطفے میں ہو چکا ہے میں اس قرار داد سے ایک لفظ بھی حذف نہیں کر سکتا۔ 

                            مولانا شاہ احمد نورانی نے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ اب قادیانیوں کو کیفر کردار تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھا جائے گا۔ چنانچہ اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی قومی اسمبلی میں اس مسئلے کے حل کیلئے آمادہ کیا جس پر بھٹو نے اس قرارداد کی حمایت کا وعدہ کیا۔ قادیانی جماعت کے سر براہ مرزا ناصر کو اپنی جماعت کے عقائد کے بارے میں صفائی اور موقف پیش کرنے کا آزادانہ موقع دیا گیا جس میں علماءکے مسلسل سوالات نے اسے لاجواب اور جھوٹا ثابت کر دیا مسلسل قومی اسمبلی میں اس مسئلہ پر بحث ہوئی اور امام نورانی نے دیگر علماء کی مدد سے اُس وقت کے اٹارنی جنرل کے ذریعے سینکڑوں سوالات کئے اور مرزا ناصر کو لاجواب اور جھوٹا ثابت کیا۔

                            اس بحث میں علامہ شاہ احمد نورانی نے قومی اسمبلی کو قادیانیوں کے بھارت اور اسرائیل کے ساتھ روابط ، پاکستان کو معاشی اور جغرافیائی نقصان پہنچانے کے بھی ثبوت پیش کیے۔ اس طویل بحث کے بعد پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں اور لاہوری گروپ کو 7 ستمبر 1974 ء کو شام 4 بجے متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ اسی روز سینٹ میں یہ قانون پاس کر لیا گیا۔ 7 ستمبر 1974 ء کا دن وہ تاریخ ساز دن تھا جس دن تقریباً 90 سالہ فتنہ کو ختم کر کے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔

0 Comments